پنجاب پولیس کو کراچی کی جیل میں قید مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو تفتیش کے لیے لاہور منتقل کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز تھانوں کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی تاکہ ملزمہ کو لاہور لا کر مختلف مقدمات میں پوچھ گچھ کی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اس مقصد کے لیے محکمہ داخلہ اور عدالت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات فروشی کے پانچ مقدمات درج ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب منشیات کیس کے تفتیشی افسر نے کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ سے پنکی کی مبینہ وائس نوٹس کا فرانزک کرانے کی اجازت بھی طلب کر لی ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ دورانِ تفتیش کئی وائس نوٹس سامنے آئے، تاہم ملزمہ نے ان وائس نوٹس کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ کیس میں اہم شواہد فراہم کر سکتی ہے۔
ادھر پنکی کے دو مبینہ سہولت کاروں سہیل الرحمان اور ذیشان الرحمان نے کراچی کی سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا منشیات کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں بغیر ثبوت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے نام مقدمے سے خارج کیے جائیں۔
گزشتہ روز کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے پنکی کو عدالت میں پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر چالان جمع ہونے تک ملزمہ کی جسمانی حاضری ضروری نہیں۔ تاہم عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ جب بھی عدالت طلب کرے، ملزمہ کو پیش کیا جائے۔پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزمہ کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کرائی جائے کیونکہ عدالت میں پیشی کے دوران امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور دیگر مالیاتی اکاؤنٹس منشیات کی فروخت کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق ذیشان الرحمان کے یو بی ایل میں تین جبکہ بینک الحبیب اور بینک الفلاح میں ایک، ایک اکاؤنٹ موجود ہے، جبکہ سہیل الرحمان کے یو بی ایل اور بینک الحبیب میں ایک، ایک اکاؤنٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
چند ہفتے قبل کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش متعدد افراد کے نام لیے تھے، جن میں بعض معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس گرفتاری کے بعد ملک میں منشیات کے پھیلتے ہوئے کاروبار اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر رہے ہیں۔
