آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں سکیورٹی کی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک شرپسند عناصر کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار شہید جبکہ 20 سے زائد پولیس اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔
ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق واقعے کے دوران شرپسند عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔آئی جی پولیس آزاد جموں و کشمیر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام امن و امان کی صورتحال اور ریاستی سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا۔دوسری جانب کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے،
