ایران کے اسرائیل پر جوابی میزائل حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر حملہ ایک وارننگ تھا، جارحیت دہرائی گئی تو جواب مزید وسیع ہوگا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ائیر بیس کو آئی آر جی سی ایروسپیس فورس کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہو، امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے روک دے، ورنہ نتائج مزید تباہ کن ہوں گے،خطے میں تمام امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب سینئر ایرانی ذرائع نےبتایا ہے کہ اسرائیل نےحملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے اہداف ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کو مشورہ دوں گا، آپ نے اپنے میزائل داغ دیے بس اتنا کافی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی بارک راوڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میز پر واپس آئے اور معاہدہ کرے، امریکی فوج الرٹ ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت پر آج کے حملے پر خوش نہیں ہوں، میں ابھی نیتن یاہو کو فون کرنے جا رہا ہوں، اسرائیلی وزیر اعظم سے کہوں گا کہ جوابی حملہ نہ کرے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے بعد ایران کے مغربی حصے کی فضائی حدود غیر معینہ مدت تک بند کردی گئی۔حکام عراقی سول ایوی ایشن کے مطابق فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی گئی۔شام نے بھی جنوبی فضائی حدود کو 12 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا اور دمشق ایئرپورٹ پر آپریشن معطل کردیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایران کی جانب سے تازہ حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک سنگین غلطی کی ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسرائیل فوج کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ کے لیے منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج لبنان بھر میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔بعد ازاں اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ حکم ملتے ہی دشمن پر بھرپور حملہ کریں گے۔
