Baaghi TV

افغانستان میں لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

woman

طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد خواتین پر عائد پابندیوں میں بتدریج اضافہ کیا ہے ملک بھر میں خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت مکمل پردہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ بیشتر خواتین عبایا، اسکارف اور چہرہ ڈھانپنے کے لیے نقاب استعمال کرتی ہیں۔

افغانستان کے مغربی شہر ہرات کے رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت کی اخلاقی پولیس نے لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں متعدد خواتین کو حراست میں لیا ہے، جس پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے اپنے بیان میں کہاکہ اسے ہرات میں خواتین کی مبینہ طور پر لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں ہونے والی متعدد گرفتاریوں اور حراستوں پر تشویش ہے۔

ہرات کے بعض رہائشیوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز ایسی خواتین کو حراست میں لیا گیا جو مکمل جسم ڈھانپنے والی چادر یا برقع نہیں پہنے ہوئے تھیں۔

23 سالہ ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے 2 اہلکاروں کو دیکھا، جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا، جو 2 خواتین کو گاڑی میں بٹھا رہے تھے گرفتار کی جانے والی خواتین نے سر ڈھانپ رکھا تھا اور وہ مکمل طور پر پردے میں تھیں اس صورتحا ل کے باعث ہر شخص خوفزدہ ہے۔

27 سالہ ایک اور خاتون نے بتایا کہ انہوں نے وزارت کے اہلکاروں کو گاڑیاں روک کر مسافروں کے لباس کی جانچ کرتے دیکھا، جبکہ متعدد خواتین کو حرا ست میں لے کر وینوں میں منتقل کیا گیاگرفتار ہونے والی بیشتر خواتین وہ تھیں جو چادر نہیں پہنے ہوئے تھیں۔

کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد ایک صحافی اور ہرات کے متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے20 سالہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کہاکہ خواتین اب شہر میں تقریباً نظر ہی نہیں آتیں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ چادر کے بغیر خواتین کو اپنی گاڑی میں سوار نہ کریں۔

33 سالہ ایک خاتون نے موجودہ صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس بات پر شدید افسردہ ہیں کہ انہیں آزادانہ طور پر سانس لینے کا حق بھی حاصل نہیں،خواتین کے لیے زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے خواتین کی گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا وزارت کے شعبہ اطلاعات نے کہاکہ ہرات میں کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے لباس سے متعلق ضابطہ ایک الٰہی حکم اور نافذ شدہ قانون ہے، جس پر عملدرآمد ان کی ذمہ داری ہے۔

More posts