Baaghi TV

احمد آباد طیارہ حادثہ، پائلٹوں کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے، مطالبہ

india

احمد آباد میں ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171 کے المناک حادثے کو ایک سال مکمل ہونے پر فیڈریشن آف انڈین پائلٹس (ایف آئی پی) نے حادثے کی تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور پائلٹوں کو قبل از وقت ذمہ دار قرار نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیڈریشن کے صدر کیپٹن سی ایس رندھاوا نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف چند سیکنڈ کی کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) آڈیو کی بنیاد پر حادثے کی ذمہ داری پائلٹوں پر عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دیا گیا کہ پائلٹوں نے غلطی سے انجن بند کر دیے تھے، تاہم حادثے کے تمام تکنیکی پہلوؤں کی مکمل جانچ ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات کو صرف فیول کنٹرول سوئچ تک محدود رکھنے کے بجائے طیارے کے برقی، الیکٹرانک اور کمپیوٹرائزڈ نظاموں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔کیپٹن رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ بوئنگ 787 طیاروں میں ماضی میں بھی مختلف برقی خرابیوں کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں، جن میں لیتھیم بیٹری سے متعلق مسائل، برقی آگ لگنے کے واقعات، پانی کے رساؤ اور الیکٹرانک نظام میں خرابی جیسے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حادثے کے روز ویانا سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی ایک اور بوئنگ 787 پرواز میں بھی برقی شارٹ سرکٹ اور الیکٹرانک حصے میں پانی داخل ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

فیڈریشن آف انڈین پائلٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات میں مزید پائلٹوں، انجینئروں اور فضائی سلامتی کے ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ حادثے کے تمام ممکنہ اسباب کا غیر جانبدارانہ اور جامع جائزہ لیا جا سکے۔ تنظیم کے مطابق اس سلسلے میں گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت اور تحقیقاتی اداروں کو 20 سے زائد خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔کیپٹن رندھاوا نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے پائلٹ کیپٹن سمیت سبر وال کے والد پشکر راج سبر وال کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس میں عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حادثے سے قبل طیارے کی جانب سے بھیجے گئے اے کارس (ACARS) پیغامات کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے کیونکہ ان میں طیارے کی تکنیکی حالت سے متعلق اہم معلومات موجود ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا مقصد کسی ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171 گزشتہ سال ٹیک آف کے چند منٹ بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس حادثے کی تحقیقات ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی جانب سے جاری ہیں، تاہم حتمی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی۔

More posts