وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین، پنشنرز، تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مختلف ریلیف اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ بجٹ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی آمد پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔
بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اور پاکستان نے گزشتہ برسوں میں معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اسی طرح ترسیلات زر بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف آمدنی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے اور سرچارج ٹیکس ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ کفالت پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد خریدنے پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدنی پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1050 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 365 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے، سود کی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے جبکہ سبسڈیز کے لیے 1091 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا جبکہ بعض مواقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس کے باوجود وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر مکمل کی اور حکومت نے بجٹ کو معاشی استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کردیا
