جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 710 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 149 تک پہنچ چکی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 21 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
سرکاری صورتحال رپورٹ کے مطابق جمعہ تک ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقی کانگو میں ایبولا کی وبا اب بھی قابو میں نہیں آ سکی۔ صحت حکام متاثرہ علاقوں میں نگرانی، مریضوں کی شناخت اور علاج کی سرگرمیوں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وبا کا بروقت پتہ نہ چلنے کے باعث بیماری کئی ہفتوں تک خاموشی سے پھیلتی رہی، جس کے نتیجے میں متاثرین اور اموات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ حکام کے مطابق وبا کے اعلان کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں شدید بخار، کمزوری، جسم درد، الٹی، اسہال اور بعض اوقات اندرونی و بیرونی خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کی شرح اموات بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
کانگو کی حکومت، عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیمیں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن، طبی سہولیات کی فراہمی اور عوامی آگاہی مہمات جاری ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
صحت کے ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں، مشتبہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں اور متاثرہ افراد سے غیر ضروری رابطے سے گریز کریں۔
کانگو میں ایبولا کیسز 710 تک پہنچ گئے، 149 اموات
