سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مسلسل دوسرے روز بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقے پر اراکین کی جانب سے شدید عدم اطمینان اور مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے ایف بی آر کی موجودہ ٹیکس پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیاں ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھنے کے بجائے یورپی ماڈلز پر تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں، جو پاکستان کی مقامی معاشی حقیقتوں سے بالکل میل نہیں کھاتیں۔
اجلاس کے دوران ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کے طریقہ کار پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا گیا، جہاں سینیٹر عبدالقادر نے ریفنڈز کی ادائیگیوں میں ہونے والی طویل تاخیر کا معاملہ اٹھایا۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے ایف بی آر کے حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے کی خرابیوں اور نااہلی کو فوری طور پر دور کریں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ کاروباری برادری اور عام ٹیکس دہندگان کے درمیان کھویا ہوا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
ایف بی آر کی پالیسیوں پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا شدید تحفظات کا اظہار
