Baaghi TV

سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج اور واک آؤٹ

وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، ایوان میں نعرے بازی کی اور بعد ازاں واک آؤٹ کر گئے، تاہم وزیراعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی۔
مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ صوبے کی ترقی کے لیے 720 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ترقیاتی فنڈز انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سال کسی بھی نئے ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کو ترجیح دی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کے بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، سماجی تحفظ اور دیگر عوامی شعبوں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ ترقی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔
‎مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 720 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈز سڑکوں، پلوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف عوام کو بہتر سہولیات ملیں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
‎وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری ملازمین کے لیے بھی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
‎انہوں نے مزید اعلان کیا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ایک ہزار روپے بڑھا کر 41 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کم آمدنی والے مزدوروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکیں۔
‎مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر صوبے کی ترقی اور فلاحی منصوبوں کو جاری رکھنا ہے۔

More posts