کوئٹہ: بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہے جن کے باعث مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق سپلائی گاڑیوں، ریلوے نظام اور مواصلاتی ڈھانچے پر حملوں سے نہ صرف تجارتی راہداریوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے اگست 2025 میں جبکہ آسٹریلیا اور برطانیہ نے 2026 میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔
عالمی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ سمیت متعدد بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے پس منظر پر رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ ان تجزیوں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے میں سرگرم بعض شدت پسند گروہوں کے بیرونی روابط اور معاونت کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔سکیورٹی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے سے سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی اور کاروباری طبقے کو پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، مواصلاتی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے کے عوام کو معاشی ثمرات پہنچ سکیں اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
