Baaghi TV

وینزویلا،زلزلے سے ہلاکتیں 235 ہو گئیں،امدادی کاروائیاں جاری

سیاسی اور معاشی بحران کے شکار جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے دو شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 235 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتا یا ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو بچانے کے لیے "گولڈن آور” کے دوران مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دوسرا زلزلہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں وینزویلا میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دارالحکومت کاراکاس، ساحلی ریاست لا گوائرا اور قریبی علاقوں میں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔حکام کے مطابق متعدد عمارتوں کے ملبے میں اب بھی لوگوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو اہلکار بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں، تاہم خراب انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں خود ملبہ ہٹا رہے ہیں کیونکہ سرکاری امداد ہر مقام تک نہیں پہنچ سکی۔

زلزلے کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وینزویلا پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق 26 جون سے 23 اکتوبر تک زلزلہ متاثرین کی امداد سے متعلق مالی لین دین کی اجازت دی گئی ہے تاکہ امدادی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور مالیاتی ادارے متاثرین تک فوری مدد پہنچا سکیں۔

مقامی ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی امدادی کارروائیاں انتہائی سست ہیں۔ معاشی ماہر جارج جریساتی کے مطابق عوام کو یقین نہیں کہ ریاست ان کی مؤثر مدد کر سکے گی کیونکہ ملک میں حکومتی اداروں کی صلاحیت پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے۔دوسری جانب مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار رضاکاروں، چرچز، مقامی تنظیموں اور شہریوں پر ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدرتی آفت قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شفاف اور مؤثر انداز میں امدادی کارروائیاں انجام دینے میں کامیاب رہی تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، تاہم بدانتظامی یا امداد کی غیرمنصفانہ تقسیم عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

زلزلے کے دوران سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ایک مسافر طیارہ شدید جھٹکوں کی زد میں آگیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق مسافر خوف کے عالم میں اپنی نشستوں کو مضبوطی سے پکڑے رہے جبکہ طیارہ رن وے پر ہلتا رہا۔ زلزلے سے ہوائی اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

زلزلے کے بعد عالمی سطح پر امدادی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔امریکا نے ریسکیو ٹیمیں، طبی امداد اور 150 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ شہری علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی کو مربوط بنا رہی ہے۔اس کے علاوہ کولمبیا، میکسیکو، اسپین، فرانس، چلی، ایل سلواڈور، پاناما، کیوبا، ڈومینیکن ریپبلک، جاپان، چین اور ایران سمیت متعدد ممالک نے امدادی ٹیمیں، ڈاکٹرز، ریسکیو اہلکار، ادویات اور ضروری سامان وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

زلزلے کے بعد مسلسل آفٹر شاکس کے خوف سے ہزاروں شہری رات سڑکوں، پارکوں اور کھلے میدانوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔متاثرہ علاقوں میں بجلی، مواصلاتی نظام اور بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ملبے تلے دبے افراد کو جلد نہ نکالا گیا تو ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق وینزویلا کو فوری انسانی امداد، طبی سہولیات، عارضی رہائش اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

More posts