لبنان اور شام نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے باہمی احترام، خودمختاری اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے۔
یہ معاہدہ بیروت میں اس وقت طے پایا جب لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کا سرکاری وفد کے ہمراہ استقبال کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں فریق برابری کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کریں گے۔
حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط بنانا، سیاسی اور سفارتی روابط کو وسعت دینا اور مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور شام دونوں کو خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے، جس کے تناظر میں اس معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری، سرحدی تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
لبنان اور شام کا باہمی عدم مداخلت کا معاہدہ
