ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف "طاقتور حملوں” کا آغاز کیا ہے۔ امریکی بیان کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی سرویلنس سسٹم، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بندرعباس، قشم جزیرے اور جنوبی ساحلی شہر سرک میں متعدد دھماکے سنے گئے۔ بندرعباس میں ایک فشنگ جیٹی پر حملے کے نتیجے میں ماہی گیروں کی کئی کشتیوں میں آگ لگ گئی، جبکہ سرک کے کمرشل پورٹ پر میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جنوبی ایران میں امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحرین اور کویت میں ممکنہ فضائی حملوں کے خدشے کے باعث ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی افواج نے ایران کے جنوبی علاقوں میں نئی فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے صوبہ بوشہر کے شہر خورموج کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈرون ایرانی فضائی حدود کی نگرانی کر رہا تھا، تاہم امریکا کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر کویت کی مسلح افواج نے ملک بھر میں شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو مؤثر انداز میں تباہ کر رہا ہے۔ فوج کے مطابق مختلف علاقوں میں سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں، اس لیے عوام خوفزدہ ہونے کے بجائے سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
بحرین میں بھی ممکنہ فضائی حملے کے خطرے کے پیش نظر سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ بحرینی وزارت دفاع نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ایران نے امریکی حملوں کا "تباہ کن جواب” دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نے جنوبی ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، اینٹی شپ کروز میزائل تنصیبات، ڈرون لانچنگ سائٹس اور پاسدارانِ انقلاب کی بحری تنصیبات شامل ہیں۔پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی مشترکہ فوجی کمان نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ امریکا نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی فوجی قیادت نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت سے متعلق فیصلے ایران کی پالیسی کے مطابق ہوں گے۔
اسی دوران ایران نے قطر سے منسلک ایل این جی ٹینکر پر حملے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور کسی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کی پالیسی نہیں رکھتا۔
ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان یا تیل کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
