Baaghi TV

جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم اتارنے ،ریپ کرنےوالا امریکی سینیٹ امیدوار انتخابات سے فرار

واشنگٹن: امریکی ریاست مین سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار گراہم پلیٹنر نے جنسی زیادتی کے سنگین الزامات کے بعد اپنی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پر ایک سابق خاتون ساتھی نے ریپ کا الزام عائد کیا، جسے پلیٹنر نے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے، تاہم سیاسی دباؤ میں اضافے کے بعد انہوں نے بالآخر انتخابات سے دستبرداری اختیار کر لی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز خاتون کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں اور حامیوں نے گراہم پلیٹنر سے انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا۔ سابق امریکی سینیٹر باربرا باکسر نے بھی ان کی حمایت واپس لیتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے پوری زندگی جدوجہد کرتی رہی ہیں، اس لیے ایسے الزامات کے بعد پلیٹنر کی حمایت جاری نہیں رکھ سکتیں۔گراہم پلیٹنر نے بدھ کی شب 11 منٹ پر مشتمل ایک ویڈیو پیغام میں اپنی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بااثر حلقے ان الزامات کو ان کی سیاسی مہم ختم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ویڈیو میں کسی قسم کی معذرت نہیں کی، جس پر ڈیموکریٹک رہنماؤں اور پارٹی کارکنوں نے شدید تنقید کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پلیٹنر کے رویے نے پارٹی کے اندر مزید اختلافات کو جنم دیا۔ ان کے کئی قریبی مشیروں نے انہیں نرم لہجہ اختیار کرنے اور کارکنوں سے معذرت کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔

رپورٹ کے مطابق گراہم پلیٹنر کی انتخابی مہم ابتدا ہی سے مختلف تنازعات کا شکار رہی۔ گزشتہ برس ان کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹس منظر عام پر آئیں، جن میں انہوں نے خواتین، جنسی ہراسانی اور پولیس سے متعلق متنازع تبصرے کیے تھے۔ بعد ازاں ان کے جسم پر ایک ایسا ٹیٹو بھی سامنے آیا جو نازی علامت سے مشابہت رکھتا تھا، جس پر انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اسے ختم کرانے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ ان کی اہلیہ نے بھی ماضی میں انتخابی مہم کے منتظمین کو بتایا تھا کہ پلیٹنر شادی کے ابتدائی عرصے میں دیگر خواتین کو نامناسب نوعیت کے پیغامات بھیجتے رہے تھے۔ بعد میں چند سابقہ ساتھی خواتین نے بھی ان پر دھمکی آمیز اور خوفزدہ کرنے والے رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔

تازہ ترین بحران اس وقت پیدا ہوا جب جینی ریسیکوٹ نامی خاتون نے دعویٰ کیا کہ تقریباً پانچ سال قبل پلیٹنر نے نشے کی حالت میں ان کے گھر میں داخل ہو کر ان کے ساتھ زیادتی کی۔ پلیٹنر نے اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے، تاہم اس الزام کے بعد ان کی حمایت میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوگئی۔

امریکی سینیٹ کے امیدوار گراہم پلاٹنر کو اپنی سابقہ ساتھی کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ سابقہ ساتھی لنڈسے فیفیلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2013 سے 2015 کے دوران تعلقات کے دوران پلاٹنر نے متعدد مواقع پر ان کی رضامندی کے بغیر کنڈوم ہٹا دیا۔لنڈسے فیفیلڈ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے بارہا واضح کیا تھا کہ وہ برتھ کنٹرول ادویات استعمال نہیں کر رہی تھیں، اس لیے محفوظ طریقہ اختیار کرنا ان کے لیے ضروری تھا۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود ان کی رضامندی کے بغیر تحفظ ہٹایا جاتا رہا۔اس معاملے نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ رضامندی کے بغیر جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم ہٹانے کے عمل کو "اسٹیلتھنگ” کہا جاتا ہے۔ متعدد امریکی ریاستوں اور دیگر ممالک میں اس عمل کو قانونی طور پر سنگین جرم یا جنسی استحصال کی ایک شکل تصور کیا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق، لنڈسے فیفیلڈ اس سے قبل بھی پلاٹنر پر جسمانی تشدد اور بدسلوکی کے الزامات عائد کر چکی ہیں۔ تاہم، ان الزامات پر متعلقہ عدالتی کارروائی یا حتمی قانونی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز، جو پہلے پلیٹنر کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے، نے بھی انہیں انتخابات سے الگ ہونے کا مشورہ دیا۔ اسی طرح سینیٹر الزبتھ وارن سمیت متعدد ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی ان سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔پلیٹنر کی دستبرداری کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس اب محدود وقت رہ گیا ہے تاکہ وہ ریاست مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے مقابلے کے لیے نیا امیدوار نامزد کر سکے۔ پارٹی قوانین کے مطابق پلیٹنر کی باضابطہ دستبرداری کے بعد 27 جولائی تک نئے امیدوار کا انتخاب کیا جانا ضروری ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گراہم پلیٹنر کی مہم کا خاتمہ نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ امریکہ کی ترقی پسند سیاسی تحریک کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے، کیونکہ انہیں پارٹی کے ابھرتے ہوئے چہروں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ تاہم تازہ جنسی زیادتی کے الزامات نے ان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا اور بالآخر انہیں انتخابی دوڑ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

More posts