Baaghi TV

تیہاڑ جیل کا کھانے پر اعتراض، جھینگے اور پاستا کی اجازت مانگ لی، امریکی ملزم کی درخواست

Tihar Jail Food Spicy, Oily, Need Shrimp, Pasta: US Mercenary To Court

نئی دہلی: بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں گرفتار امریکی شہری میتھیو ایرن وین ڈائیک نے تہاڑ جیل میں فراہم کیے جانے والے کھانے پر اعتراض کرتے ہوئے دہلی کی عدالت سے درخواست کی ہے کہ اسے جیل میں اپنا کھانا خود پکانے کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تہاڑ جیل کا کھانا زیادہ مصالحے دار، تیل والا اور گہری فرائی کیا ہوا ہوتا ہے، جسے وہ بطور امریکی شہری کھانے کا عادی نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے وہ 6 مئی 2026 سے بھوک ہڑتال پر ہے۔
ملزم نے عدالت کو بتایا کہ مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث اس کا تقریباً 14 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، نظر متاثر ہوئی ہے اور جسمانی طاقت و مدافعت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔اس کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وین ڈائیک کو اپنی خوراک خود تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔ درخواست کے مطابق اس کا خاندان تمام اخراجات، خوراک، برتن اور دیگر سامان کی قیمت خود ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔درخواست میں دالیں، سرخ گوشت، چکن، مچھلی (خصوصاً جھینگے)، پاستا، کچے نوڈلز، چاول، آلو، پیاز، پھلیاں، مصالحے، بریڈ، مکھن، زیتون کا تیل، دودھ، سویا ملک اور بوتل بند پانی رکھنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انڈکشن چولہا، برتن، پیالے اور پلاسٹک کا چاپر رکھنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔عدالت نے تہاڑ جیل انتظامیہ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

این آئی اے کے مطابق میتھیو وین ڈائیک کو 13 مارچ کو کولکاتا ایئرپورٹ سے چھ یوکرینی شہریوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیشی ادارے کا الزام ہے کہ ملزمان بھارت میں کالعدم باغی تنظیموں سے رابطے میں تھے، انہیں اسلحہ اور دیگر عسکری سامان فراہم کرتے تھے اور تربیت بھی دیتے تھے۔تحقیقات کے مطابق ملزمان سیاحتی ویزے پر بھارت آئے، آسام اور میزورم کا سفر کیا اور بعد ازاں بغیر اجازت میانمار داخل ہوئے، جہاں مبینہ طور پر مسلح گروہوں کو تربیت دی اور ڈرونز کی ترسیل میں بھی سہولت فراہم کی۔این آئی اے نے تمام ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی مختلف دفعات، جن میں مجرمانہ سازش بھی شامل ہے، کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے، جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

More posts