بلوچستان کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے نجی کارگو طیارے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے اسلام آباد سے تحقیقاتی ٹیم اورماڑہ پہنچ گئی، جس نے جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے سمندر سے برآمد ہونے والے ملبے کا تفصیلی معائنہ کیا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے طیارے کے مینٹیننس ریکارڈ کا جائزہ لینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثے سے قبل طیارہ تکنیکی طور پر کس حالت میں تھا۔ اسی دوران ریسکیو ٹیموں نے سمندر سے طیارے کا مزید ملبہ بھی برآمد کر لیا ہے۔حکام کے مطابق حادثے کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کرنے والا بلیک باکس تاحال نہیں مل سکا، جبکہ طیارے کے عملے کے پانچوں لاپتا ارکان کی تلاش کے لیے بحری اور فضائی سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔
یاد رہے کہ نجی کارگو کمپنی کا طیارہ گزشتہ منگل کی شب شارجہ سے کراچی آتے ہوئے بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ طیارے میں عملے کے مجموعی طور پر پانچ افراد سوار تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے سے قبل طیارے کے عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے ہیڈنگ گائیڈنس طلب کی تھی۔ فلائٹ ریڈار کے ابتدائی ڈیٹا کے مطابق طیارہ غیر معمولی رفتار سے سمندر کی جانب بڑھا، جبکہ اسی فضائی راستے میں پرواز کرنے والے متعدد طیاروں نے جی پی ایس اسپوفنگ کی بھی رپورٹ کی تھی۔تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کی برآمدگی کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا، جبکہ تمام ممکنہ پہلوؤں، بشمول تکنیکی خرابی، نیویگیشن مسائل اور دیگر عوامل، کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
