اراضی ریکارڈ سنٹر، رجسٹری برانچ اور پٹواریوں کے خلاف شکایات کے انبار عوامی مسائل وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچاؤں گا راجہ شوکت عزیز بھٹی
عوامی حلقے منقسم حامیوں نے اقدام کو خوش آئند قرار دیدیا، ناقدین بولے 4 سال بعد ہوش آیا ڈیرے کے بعد سرکاری دفتر پر قبضہ کیوں؟
گوجرخان (قمرشہزاد) اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ ن کے مقامی رکن صوبائی اسمبلی ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی کی جانب سے اے سی آفس کے اندر کھلی کچہری کے انعقاد نے جہاں عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، وہی اس اقدام پر شدید آئینی و سیاسی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے پٹواریوں، گرداوروں، تحصیلدار، اراضی ریکارڈ سنٹر اور رجسٹری برانچ کے عملے کے خلاف رشوت ستانی، تاخیری حربوں اور بدعنوانی کی شکایات کے انبار لگا دیے۔ اس موقع پر بلدیہ گوجرخان اور واٹر سپلائی سے متعلق بھی شکایات سامنے آئیں، تاہم ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی نے واضح کیا کہ اس کچہری میں فی الحال صرف ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے متعلقہ شکایات ہی سنی جا رہی ہیں اور ان تمام مسائل کو براہِ راست وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچایا جائے گا۔ دوسری جانب، اس کھلی کچہری نے گوجرخان کے سیاسی اور سماجی حلقوں کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک دھڑے نے اسے عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک خوش آئند اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے، جبکہ دوسرے مقتدر حلقوں اور ناقدین کی طرف سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین نے یہ قانونی سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی بھی منتخب عوامی نمائندے کو یہ آئینی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ کسی سرکاری مقتدر بیوروکریٹ اسسٹنٹ کمشنر کی غیر موجودگی میں اس کے سرکاری دفتر کے اندر کچہری لگائے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو قائم ہوئے لگ بھگ چار سال ہونے والے ہیں، لیکن گوجرخان میں پٹواری کلچر اور اراضی ریکارڈ سنٹر کا عملہ دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہا ہے، جس پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کا بازار اچانک گرم نہیں ہوا بلکہ یہ طویل عرصے سے جاری ہے، لہٰذا اتنی طویل تاخیر کے بعد سرکاری دفتر میں کھلی کچہری لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ واضح رہے کہ راجہ شوکت عزیز بھٹی اس سے قبل ہر ہفتے اپنے ذاتی ڈیرے پر بھی کھلی کچہری لگاتے آئے ہیں، لیکن عوامی حلقوں کا شکوہ ہے کہ ان روایتی کچہریوں کے باوجود گوجرخان کے بنیادی مسائل کم ہونے کے بجائے روز بہ روز بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے لیے عملی اور ٹھوس انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اے سی کی غیر موجودگی میں ایم پی اے شوکت بھٹی کی سرکاری دفتر میں کھلی کچہری
