Baaghi TV

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ

‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ جبکہ سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
‎بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں بے یقینی بڑھ گئی، جس نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
‎دوسری جانب محفوظ سرمایہ کاری تصور کیے جانے والے سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تقریباً 3 فیصد گر کر 4,005.59 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کے رجحان اور مالیاتی منڈیوں میں بدلتی صورتحال کے باعث سونے کی قیمت دباؤ کا شکار ہوئی۔
‎اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی توانائی کی منڈی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
‎دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیاں بھی خطے کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیش رفت، سفارتی کوششوں اور کسی بھی نئے فوجی اقدام پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان عوامل کے عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور سرمایہ کاری پر براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
‎ماہرین کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی میں کمی نہ آئی تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر اہم اشیائے خام کی قیمتوں میں بھی مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔

More posts