Baaghi TV

مون سون خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ، 11 اضلاع انتہائی حساس قرار

‎مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے خدشے کے پیش نظر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت نے ہنگامی اقدامات تیز کرتے ہوئے متعلقہ تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پیشگی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
‎سرکاری حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریاؤں میں طغیانی، گلیشیئر جھیل پھٹنے اور شدید بارشوں کے خطرات معمول سے زیادہ ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
‎حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے تمام 37 اضلاع میں مون سون ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطرات کے تفصیلی جائزے کے بعد 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
‎انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے اور ضلعی ہنگامی منصوبوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کر کے صوبائی نظام کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے، جبکہ رضاکاروں کی تربیت مکمل کر کے انہیں ہنگامی صورتحال میں خدمات انجام دینے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
‎سرکاری حکام کے مطابق انخلا کے راستے، محفوظ مقامات اور امدادی مراکز پہلے ہی مختص کر دیے گئے ہیں۔ ریسکیو آلات، بھاری مشینری، مواصلاتی نظام اور دیگر ضروری وسائل بھی ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
‎حکام نے ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ موسمی انتباہات پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

More posts