400 کلو گرام چاندی چوری اور اسمگلنگ کیس میں تحقیقات نے اہم موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مزید پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں محکمہ کسٹمز کے سابق کلکٹر کرم الٰہی بھی شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل اسی مقدمے میں دو کسٹم افسران عارف اور سمیع اللہ کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 214 کلو گرام چاندی اور 49 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ برآمدگی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے مقدمے کے مزید پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔
تحقیقات کے مطابق اپریل میں محکمہ کسٹمز کے ریکارڈ میں موجود 400 کلو گرام چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد چاندی کی چوری اور اسمگلنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ ان سے مزید پوچھ گچھ کی جا سکے۔ تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث ہیں اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ادارے کے مطابق کیس میں دو انسپکٹرز سمیت دیگر مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور شواہد کی بنیاد پر نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چاندی کی چوری اور اسمگلنگ کے اس مقدمے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق تمام ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایف آئی اے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری املاک میں خورد برد اور اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹمز سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
