امریکا نے ایران پر مسلسل دسویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کو نشانہ بنانے والی ایرانی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ تازہ حملوں میں ایرانی فوجی مراکز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مقامات، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق گزشتہ دنوںسے جاری امریکی حملوں میں شمال مغربی شہر تبریز سمیت مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 517 زخمی ہوئے ہیں۔
اس دوران ایران نے امریکا کے اتحادی ممالک کویت، اردن اور بحرین پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اردن نے تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین نے اپنے فضائی ٹریفک نظام کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے۔
ادھر یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی جہازرانی روکنے کی کوشش کریں گے، جس سے عالمی توانائی کی رسد پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔مسلسل کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتا رہا تو اسے اس کی "بھاری قیمت” چکانا پڑے گی۔ امریکی فوج کے مطابق حالیہ دنوں میں اردن اور عراق میں حملوں کے دوران مزید امریکی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔
