بھارت میں جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کے سامنے مزید دو مطالبات پیش کر دیے ہیں۔
سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ان کے نئے مطالبات تسلیم نہیں کرتی۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے ورثا کو ایک کروڑ روپے فی خاندان معاوضہ دیا جائے، جبکہ 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوث پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔پارٹی نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستقبل میں کوئی نئی وزارت نہ دی جائے۔ سی جے پی کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آج ملک بھر میں کینڈل مارچ میں شرکت کرکے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کریں۔
دوسری جانب جنتر منتر پر دھرنا دینے والے کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیشک دپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین کہتے تھے کہ مودی حکومت میں کوئی استعفیٰ نہیں دیتا، مگر عوامی دباؤ کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔سی جے پی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک تمام مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔
