قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت
دنیا میں کم، پاکستان میں زیادہ قومی اداروں پر مسلسل بحث کے اثرات اور چیلنجز
قومی اداروں کا وقار اور ریاستی استحکام عالمی تجربات پاکستان کو کیا سبق دیتے ہیں؟
دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قومی سلامتی کے دیگر ادارے ریاست کے بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں ان اداروں کا بنیادی مقصد سرحدوں کا دفاع، داخلی و خارجی خطرات کی نگرانی، اور قومی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، بھارت، ترکی اور دیگر ممالک میں بھی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں، لیکن وہاں عمومی طور پر ان اداروں کو روزمرہ کی سیاسی کشمکش کا مستقل موضوع نہیں بنایا جاتا۔
بین الاقوامی سطح پر سول و عسکری تعلقات (Civil-Military Relations) کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی کے اداروں کی پیشہ ورانہ حیثیت اور سیاسی غیرجانبداری کسی بھی ریاست کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں قومی سلامتی کے معاملات پر بحث ضرور ہوتی ہے، مگر یہ بحث عموماً پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، بجٹ، یا آئینی و قانونی دائرہ کار تک محدود رہتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ فوج اور انٹیلی جنس ادارے سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازعات کا حصہ نہ بنیں، کیونکہ اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد قومی سلامتی کا ایک اہم جزو سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک ایٹمی طاقت ہے، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے، اور دنیا کے حساس ترین جغرافیائی خطوں میں واقع ہے۔ ایسے ماحول میں قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید، سوال یا احتساب کی گنجائش اپنی جگہ موجود رہتی ہے، لیکن جب یہ موضوع مسلسل سیاسی محاذ آرائی، سوشل میڈیا مہمات، یوٹیوب مباحث اور جماعتی بیانیوں کا مرکز بن جائے تو اس کے اثرات ریاستی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، بین الاقوامی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب فوج یا قومی سلامتی کے ادارے شدید سیاسی پولرائزیشن کا حصہ بن جائیں تو سول و عسکری تعلقات پر دباؤ بڑھتا ہے اور قومی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کئی جمہوری ممالک میں فوج کی غیرجانبداری اور اسے سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کو ایک بنیادی قومی اصول سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق گفتگو ذمہ دارانہ، حقائق پر مبنی اور قومی مفاد کے دائرے میں ہو۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ایسا طرزِ گفتگو جو اداروں کو مستقل سیاسی تنازعات کا مرکز بنا دے، وہ قومی وحدت اور ریاستی استحکام کے لیے سودمند نہیں سمجھا جاتا، قومی سلامتی کے ادارے کسی فرد، جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست اور قوم کے ادارے ہوتے ہیں، اور ان کے بارے میں رائے دیتے وقت قومی مفاد، ادارہ جاتی وقار اور ریاستی استحکام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
مختصراً، دنیا کی کامیاب ریاستوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط جمہوریت، مستحکم قومی سلامتی اور باوقار ادارے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قوتیں، میڈیا اور ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں تو قومیں مضبوط اور ریاستیں مستحکم بنتی ہیں۔
