Baaghi TV


فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ سے 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر، یورپ میں خطرے کی گھنٹی

‎فرانس اور اسپین میں موسمیاتی تبدیلی سے منسلک شدید جنگلاتی آگ کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکام نے آگ کے پھیلاؤ کے پیش نظر مزید علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ آئندہ چند روز میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق فرانس کے شہر بورڈو میں تقریباً سات ہزار افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس کا سب سے بڑا انخلا ہے۔ دوسری جانب اسپین میں فائر فائٹرز دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں بھڑکنے والی دو بڑی جنگلاتی آگ کو ایک دوسرے سے ملنے سے روکنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
‎شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ بجھانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں سینکڑوں فائر فائٹرز، امدادی ٹیمیں، ہیلی کاپٹر اور فضائی جہاز آگ پر قابو پانے کے لیے سرگرم ہیں۔
‎ماہرین کے مطابق رواں سال یورپ میں معمول سے کہیں زیادہ رقبہ جنگلاتی آگ کی نذر ہو چکا ہے۔ جنگلاتی آگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ براعظم میں آگ کے واقعات کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
‎سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے خطرناک واقعات کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد کی زندگی، ماحول اور معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

More posts