امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں جانی نقصان کے شفاف اعداد و شمار پر اعتراضات کے بعد پینٹاگون نے اپنے مرکزی ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے،گزشتہ ہفتے ڈیٹا میں غیر متوقع کمی اور شفافیت کی کمی پر پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ہفتے کے روز ڈسکاس (ڈی سی اے ایس) کے نظام میں 140 سے زائد مزید زخمی امریکی اہلکاروں کا اندراج کیا گیا ہے اور پچھلے ہفتے ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 4 فوجیوں کے نام بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔
پینٹاگون کے ان نئے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 624 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ پچھلے ہفتے سامنے آنے والے 482 زخمیوں کے ہندسے میں نمایاں اضافہ ہے۔
پینٹاگون کے نظام میں کی جانے والی ان تبدیلیوں اور ایرانی حملوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم دکھائے جانے پر امریکی قانون سازوں اور میڈیا نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھااس معاملے پر سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی کے بارہ ڈیموکریٹک ارکان نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خط لکھ کر اس گڑبڑ کی وجوہات طلب کی تھیں۔
تنازع بڑھنے پر دفاعی شعبے کے قائم مقام پریس سیکرٹری جوئیل والڈیز نے وضاحت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ”ویب سائٹ پر اعداد و شمار میں یہ کمی صرف عارضی فنی خرابیوں کا نتیجہ تھی“۔
تاہم، ڈیٹا میں جانی نقصان کی ایک نئی کیٹیگری کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جس میں7 جولائی سے شروع ہونے والے غیر ملکی آپریشنز کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں، لیکن پینٹاگون کی جانب سے اس نئی کیٹیگری کی مکمل وضاحت تاحال فراہم نہیں کی گئی،7 جولائی کی یہ تاریخ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے اس نوٹس سے ملتی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا تنازع شروع ہوا ہے۔
امریکی آئین کے تحت وار پاورز ایکٹ کے مطابق صدر کو 60دنوں کے اندر ملٹری آپریشنز کے لیے کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے، تاہم موجودہ انتظامیہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو بنیاد بنا کر اس وقت کی گنتی دوبارہ شروع کی ہے۔
انتظامیہ کی اس منطق پر اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہےاس حوالے سے ہاؤس کی سماعت کے دوران ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے وزیر دفاع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے شدید تشویش ہے کہ انتظامیہ اس وقفے کے بہانے کانگریس کی آئینی منظوری کو نظر انداز کر رہی ہے اور قانونی ضرورت سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے-
