بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد حبیب اللہ نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔
حبیب اللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ سے بتایا گیا ہے،گرفتار دہشت گرد کے مطابق تنظیم نے اسے جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کیا، بعد ازاں ذہن سازی کرکے دہشت گرد کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا، اسے پہلے چنل دشت منتقل کیا گیا جہاں اس کی ذہن سازی کی گئی،جس کے بعد سرگڑھ کیمپ میں اسلحہ چلانے بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملے کرنے، شناخت چھپانے اور فرار کے طریقے سکھائے گئے۔
حبیب اللہ کے مطابق دہشت گرد تنظیم نے اسے صرف 25 ہزار روپے کے عوض اپنے ہی بلوچ بھائیوں کے خلاف استعمال کیادہشت گرد کارروائیوں سے قبل تنظیم کی جانب سے اسلحہ، ہدایات اور رابطے فراہم کیے جاتے تھے جبکہ ہر کارروائی میں حصہ لینے کے بدلے رقم دی جاتی تھی۔
گرفتار دہشت گرد نے دعویٰ کیا کہ خضدار، بیلہ، نال اور سنارو کیمپ سے متعلق مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں وہ شریک رہا،خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 شہری جاں بحق ہوئے تھے،بی وائی سی کے دھرنوں کے دوران اس کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا۔
گرفتار دہشت گرد کے مطابق تنظیم میں شامل ہونے والے کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث اس گروہ کا حصہ بنتے ہیں،تنظیم ابتدا میں خواب دکھا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتی ہے، لیکن بعد میں انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے تاکہ وہ واپس نہ جا سکیں جو شخص دہشت گرد تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے دہشت گرد کیمپوں میں کھانے پینے کا مناسب انتظام بھی نہیں ہوتا اور دہشت گرد قریبی دیہات سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد کے انکشافات سے تنظیموں کے طریقہ کار، بھرتی کے ذرائع اور کارروائیوں کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
