Baaghi TV


پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری متاثرین کا احتجاج، اربوں روپے کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کا مطالبہ

‎پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری متاثرین ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت پنجاب سے اس منصوبے میں مبینہ اربوں روپے کی بے ضابطگیوں اور فراڈ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
‎احتجاج کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر خرم شہزاد، سیکرٹری ڈاکٹر شبیر سرور اور دیگر عہدیداروں نے کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹاؤن تھری منصوبے سے وابستہ اساتذہ اور ملازمین گزشتہ دس برس سے اپنے پلاٹوں کے حصول کے منتظر ہیں، لیکن اب تک انہیں ان کا حق نہیں مل سکا۔
‎مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ منصوبے میں مبینہ اربوں روپے کے فراڈ کا نوٹس لیں اور ایک ہزار سے زائد متاثرین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں ان کے پلاٹ دلانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
‎ڈاکٹر خرم شہزاد نے دعویٰ کیا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ڈاکٹر اظہر نعیم کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے ایک کیس میں ذمہ دار قرار دیا تھا۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر اظہر نعیم کے قریبی رشتہ دار ٹاؤن تھری کی ڈویلپر کمپنی میں شریک تھے اور منصوبے کے دوران مبینہ طور پر اربوں روپے کی ادائیگیاں اور تجارتی اراضی کی غیر معمولی الاٹمنٹ کی گئی۔
‎مظاہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ منصوبے سے وابستہ بعض افراد کے اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ ان کے مطابق ٹاؤن تھری کے اراکین کو دی جانے والی فائلوں کی مارکیٹ میں کوئی قدر نہیں رہی، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں صرف جمع کرائی گئی رقم واپس لینے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
‎متاثرین کا کہنا تھا کہ منصوبے پر ابتدائی پانچ برسوں میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں تھی، اس کے باوجود ترقیاتی کام شروع نہیں کیے گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ممبران کی جمع کرائی گئی رقوم کو ترقیاتی کاموں کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد مالی اور ذہنی مشکلات کا شکار ہوئے۔
‎احتجاج کے دوران متاثرین نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں پنجاب یونیورسٹی کلب میں پریس کانفرنس کرنے سے روکا گیا، جس پر انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رویے کی مذمت کی۔
‎واضح رہے کہ مذکورہ الزامات احتجاج کرنے والے متاثرین کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات پر جن افراد یا اداروں کے نام لیے گئے ہیں، ان کا باضابطہ مؤقف اس خبر کے سامنے آنے تک موصول نہیں ہوا۔

More posts