یورپ کے دو بڑے ممالک فرانس اور اسپین شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت میں مزید اضافے اور بارش نہ ہونے کی پیشگوئی نے جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم موسم کی سخت صورتحال امدادی کارروائیوں کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
فرانس کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں جاری شدید ہیٹ ویو کل اپنے عروج پر پہنچے گی۔ مختلف علاقوں میں گرمی کی لہر کے حوالے سے وارننگز جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ بارش کا کوئی امکان نہ ہونے کے باعث جنگلاتی آگ مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جنوب مغربی فرانس کے گیروند ریجن میں آگ کی صورتحال رات بھر نسبتاً مستحکم رہی، جہاں فائر فائٹرز کے ساتھ فوجی انجینئرز بھی آگ بجھانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب دھوئیں اور فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر فیس ماسک فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ادھر اسپین میں دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں لگی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں بتدریج پیش رفت ہو رہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے، تاہم احتیاط کے پیش نظر 63 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
مشرقی اسپین میں امدادی کارروائیوں کو ایک اور خطرے کا سامنا ہے، جہاں تقریباً ایک صدی قبل ہونے والی ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران استعمال ہونے والا غیر پھٹا ہوا بارودی مواد اب بھی مختلف علاقوں میں موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث ان دھماکا خیز مواد کے پھٹنے کا خطرہ بھی موجود ہے، جس سے امدادی کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہوائیں آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ پر مکمل قابو پانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
فرانس اور اسپین میں شدید گرمی برقرار، جنگلاتی آگ مزید بے قابو ہونے کا خدشہ
