آزاد کشمیر پولیس نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین میں مسلح عناصر، جرائم پیشہ افراد اور منشیات کے عادی لوگ شامل ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ کالعدم قرار دی گئی کمیٹی نے متعدد افراد کے شناختی کارڈ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج میں شریک بعض افراد کے پاس اسنائپر رائفلیں بھی موجود ہیں، جو صورتحال کو مزید تشویشناک بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج واقعی پرامن ہوتا تو مظاہرین ہتھیار لے کر سڑکوں پر نہ آتے۔ ان کے مطابق سفید جھنڈوں کے پیچھے اسلحہ چھپا کر لانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تشدد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عناصر دہشت گردانہ نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر کی ہے اور بعض مقامات پر لوگوں سے کھانے پینے کی اشیا بھی چھیننے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج میں شامل تقریباً 70 فیصد افراد جرائم پیشہ یا منشیات کے عادی ہیں۔
ایس ایس پی ریاض مغل نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض زخمی مظاہرین اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے متاثر ہوئے، لیکن اس کا الزام پولیس پر عائد کیا گیا۔ ان کے مطابق کچھ عناصر جان بوجھ کر ایسے واقعات کو اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر شہید ہوا جبکہ ایک اہلکار کی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہوئی۔ اس کے علاوہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور مجموعی طور پر 174 پولیس اہلکار مختلف کارروائیوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل بھی تین پولیس اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
مظاہرین میں مسلح عناصر اور جرائم پیشہ افراد شامل ہیں: آزاد کشمیر پولیس
