نیو یارک یونیورسٹی کے ماہر ارضیات پروفیسر مائیکل ریمپینو نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ زمین پر بڑی قدرتی اور ارضیاتی تباہیاں تقریباً ہر 27 ملین سال بعد ایک باقاعدہ چکر کے تحت رونما ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی تاریخ میں کئی بڑے تباہ کن واقعات ایک مخصوص زمانی وقفے کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ کسی گہرے ارضیاتی عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
پروفیسر ریمپینو نے اپنے تازہ تحقیقی مقالے میں جدید عمر شناسی کے اعداد و شمار اور شماریاتی تجزیے کی مدد سے گزشتہ تقریباً 260 ملین برسوں کے دوران پیش آنے والے 89 بڑے ارضیاتی واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات کے درمیان حیران کن حد تک مماثلت اور باقاعدہ وقفہ پایا جاتا ہے۔
تحقیق میں جن بڑے واقعات کا جائزہ لیا گیا ان میں سمندری جانداروں کی بڑے پیمانے پر معدومیت، سمندروں میں آکسیجن کی شدید کمی، آتش فشاں سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ، طاقتور زلزلوں کے طویل سلسلے، سمندر کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں اور سمندر کی تہہ کے پھیلاؤ کی رفتار میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔
پروفیسر ریمپینو کے مطابق ان تمام ارضیاتی تبدیلیوں کا تعلق تقریباً 27 ملین سال کے ایک مشترکہ چکر سے دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمین کے اندر یا نظامِ شمسی میں کوئی ایسا بنیادی عمل موجود ہو سکتا ہے جو وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر قدرتی تبدیلیوں کو جنم دیتا ہے۔
تاہم اس تحقیق پر سائنسی حلقوں میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ متعدد ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ مختلف نوعیت کے ان واقعات کو ایک ہی وجہ یا ایک ہی نظام سے جوڑنے کے لیے ابھی مزید مضبوط شواہد درکار ہیں۔ ان کے مطابق معدومیت، آتش فشانی سرگرمی، زلزلے اور سمندری تبدیلیاں مختلف عوامل کے نتیجے میں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب پروفیسر ریمپینو اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ زمین کی تاریخ میں بڑے پیمانے پر معدومیت اور دیگر تباہ کن واقعات کے پیچھے کوئی نہ کوئی بنیادی اور مشترکہ ارضیاتی راز موجود ہے، جسے سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم اس تحقیق میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ مستقبل میں کسی مخصوص تاریخ پر کوئی تباہ کن قدرتی آفت ضرور آئے گی، بلکہ یہ ایک سائنسی نظریہ ہے جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔
زمین پر ہر 27 ملین سال بعد بڑی قدرتی آفات آتی ہیں: ماہر ارضیات کا دعویٰ
