Baaghi TV


پاکستان 2029ء تک بنگلہ دیش کو 5 ہزار گاڑیاں برآمد کرے گا

‎پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آٹو موبائل شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان نے 2029ء تک بنگلہ دیش کو 5 ہزار گاڑیاں برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پہلی بار پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں اتنی بڑی تعداد میں بیرون ملک برآمد کی جائیں گی۔
‎وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی صنعتی اور برآمدی پالیسی میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مینوفیکچرنگ حب بنانے کے وژن پر عمل پیرا ہے اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے مقامی صنعت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
‎ہارون اختر نے بتایا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان میں مختلف صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو ملکی معیشت اور برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کے ساتھ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
‎انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں بیٹریوں کی تیاری کے لیے 150 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد موبائل فون اب مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ جلد ہی سولر پینلز کی مقامی پیداوار بھی شروع کی جائے گی، جس سے درآمدات میں نمایاں کمی اور زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے۔
‎معاونِ خصوصی نے یہ بھی بتایا کہ حکومت دو پہیوں والی الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی تیاری کے لیے اب تک 86 لائسنس جاری کر چکی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت نہ صرف ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
‎اس موقع پر رینکون آٹو کے ایم ڈی رومو روف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے اشتراک سے بنگلہ دیش کو گاڑیوں کی برآمد کی جائے گی، جبکہ بنگلہ دیش میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مانگ بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایم جی پاکستان کے سی ای او جیان چھیانگ ساؤ نے کہا کہ ہر ملک کی آٹو انڈسٹری کو ترقی کے لیے مناسب حکومتی تحفظ اور پالیسی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے مقامی صنعت مضبوط اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

More posts