Baaghi TV


جرمنی میں شدید گرمی سے رواں سال 10 ہزار کے قریب اموات

‎جرمنی میں شدید گرمی کی لہر کے باعث رواں سال اب تک تقریباً 10 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جرمن ادارۂ صحت رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق زیادہ تر اموات 75 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ریکارڈ کی گئی ہیں، جو شدید درجہ حرارت کے اثرات کے لیے زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔
‎ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت انسانی جسم پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل و سانس کی بیماریوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
‎رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتا ہے تو گرمی سے ہونے والی اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارے نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور بزرگ افراد کی خصوصی دیکھ بھال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک میں مقامی حکام نے ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے تاکہ کمزور طبقات کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
‎ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی درجہ حرارت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے شہریوں کو موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور گرمی کی شدت کے دوران اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

More posts