ایران نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع احمد الجابر ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان، جسے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا، میں کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران امریکی فوج کے لیے استعمال ہونے والے اہم فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق ڈرون حملوں میں طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو ہدف بنایا گیا۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔ ایران کے مطابق کویت کا احمد الجابر ایئر بیس خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور فوجی کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں بھی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر تہران میں قائم سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے وابستہ محقق علی اکبر دارینی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی تنصیبات اور سازوسامان میں اضافہ کر رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایران کے خلاف مزید بڑے حملوں کی تیاری ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران حالیہ حملوں کے ذریعے ممکنہ امریکی فوجی کارروائیوں کو پہلے ہی روکنے یا محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کئی ممالک دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اپیل کر رہے ہیں، کیونکہ کسی بھی نئے فوجی تصادم کے پورے مشرق وسطیٰ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
