افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مختلف مزاحمتی گروپوں نے طالبان کے خلاف حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان میں طالبان حکومت کو مسلسل سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گوریلا نوعیت کی کارروائیوں میں اضافے نے صوبے میں طالبان کی عملداری اور سکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔مزاحمتی گروپوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یفتل، زیبک، ارگو اور کشم کے علاقوں میں طالبان کی چیک پوسٹوں، عسکری ٹھکانوں اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 29 جولائی کو یفتل کے علاقے میں مزاحمتی فورسز نے طالبان کے ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا، جہاں سے اسلحہ اور گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لینے کا کہا گیا۔
