پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے آزاد جموں و کشمیر کے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں سنگین دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخاب شفاف نہیں تھا بلکہ اسے پیپلز پارٹی سے چھین لیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں کی گئیں، جس سے نتائج کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر گولیاں چلوا کر، خون بہا کر اور دباؤ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنی ہے تو پھر ایسے عمل کو جمہوری انتخاب نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ مسلم لیگ (ن) کو اقتدار اس قدر کیوں عزیز ہے کہ حالات خراب ہوں، لاشیں گریں، مگر اقتدار ہر صورت حاصل کرنا مقصود ہو۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن بعض مقامات پر انتخابی عملے کو اپنے ساتھ لے گئے اور بیلٹ پیپرز پر خود مہریں لگائیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں ہونے والے انتخابات سے وجود میں آنے والی حکومت پر عوام کا اعتماد قائم نہیں ہو سکے گا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ تمام تر تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، لیکن جب پورا انتخابی عمل ہی متنازع ہو جائے تو نتائج کی قانونی اور اخلاقی حیثیت بھی سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کرانے کا مطالبہ پیپلز پارٹی نے کبھی نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق ان کی جماعت نے ابتدا ہی سے مرحلہ وار انتخابات کی مخالفت کی تھی اور بعض حالات کے پیش نظر انتخابات مؤخر کرنے کی بھی درخواست دی تھی، تاہم حساس سیکیورٹی صورتحال کے باعث مرحلہ وار انتخابی شیڈول کو قبول کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پہلے ہی مرحلہ وار انتخابات کرائے جا رہے تھے، اب ان میں بھی تاخیر اور ملتوی ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کا الیکشن ہم سے چھینا گیا، دھاندلی سے نتائج بدلے گئے: قمر زمان کائرہ
