اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے آزاد کشمیر سے متعلق احتجاج کے مقدمے میں گرفتار سابق سینیٹر مشتاق احمد اور شریک ملزم دانیال کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج رخشندہ شاہین کے روبرو پولیس نے سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کو پیش کیا۔ دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے گاڑی اور اسلحہ برآمد کرنا ہے، اس لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔پراسیکیوشن نے عدالت سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کے خلاف تھانہ شالیمار اسلام آباد میں آزاد کشمیر سے متعلق احتجاج کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
