Baaghi TV

گوجرخان،حافظ قرآن بچےکی موت، سی او ہیلتھ راولپنڈی نے نوٹس لے لیا

عملے کا بروقت ابتدائی طبی امداد، میڈیکل سپیشلسٹ کے معائنے کا دعوٰی الٹراساؤنڈ نہ ہو گا تو پیٹ اور معدے کے امراض کی تشخیص کیسے ہو گی؟
ریڈیالوجسٹ کی سیٹ عرصے سے خالی اور الٹراساؤنڈ بند ہونے کا ہیلتھ کو مکمل علم، محکمہ صحت پنجاب کی خاموشی پر سنگین سوالات
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی ایمرجنسی میں مبینہ غفلت اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث پیٹ کے شدید درد میں مبتلا معصوم حافظِ قرآن بچہ جانبحق ہو گیا۔ واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر احسان غنی نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ مندرہ کے نواحی علاقے کلیال کے رہائشی اسد قریشی کے بیٹے، حافظِ قرآن محمد حفیظ کو پیٹ میں شدید درد کے باعث رورل ہیلتھ سینٹر مندرہ سے 28 مئی کو ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان ریفر کیا گیا تھا۔ لواحقین بچے کو دن کے وقت تشویشناک حالت میں ہسپتال کی ایمرجنسی میں لائے۔ متوفی کے لواحقین نے ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹرز پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عملے نے بچے کو مناسب طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے تڑپتی ہوئی حالت میں ہسپتال کے بینچ پر لٹا دیا۔ حالت مزید بگڑنے پر بچے کو راولپنڈی ریفر کیا گیا، تاہم وہ درد کی شدت اور سفری صعوبتوں کے باعث راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے پانچ روز بعد، 2 اگست کو سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے پر سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر احسان غنی نے معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ انہوں نے ایک شفاف انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے جو واقعے کے اصل حقائق کا تعین کرے گی۔ ڈاکٹر احسان غنی کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اگر کسی بھی سطح پر ڈاکٹرز یا طبی عملے کی غفلت اور لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب، جب اس حوالے سے ہسپتال کے متعلقہ آن ڈیوٹی ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لواحقین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ جب بچے کو ہسپتال لایا گیا تو دستیاب بنیادی سہولیات کے مطابق اس کا بروقت ابتدائی علاج معالجہ کیا گیا۔ ایمرجنسی میں ڈیوٹی پر معمور ڈاکٹر کے مطابق انھوں نے فوری طور پر میڈیکل سپیشلسٹ کو بھی طلب کیا جنہوں نے آ کر بچے کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ جبکہ اس روز ہسپتال کے جنرل سرجن کا آپریشن ڈے تھا اور وہ تھیٹر میں آپریشنز میں مصروف تھے، چنانچہ بچے کی تشویشناک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے بروقت راولپنڈی ریفر کر دیا گیا تھا۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان میں ریڈیالوجسٹ کی اہم ترین نشست عرصہ دراز سے خالی ہے، جس کی وجہ سے الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر بند پڑا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال، خالی سیٹ اور بند الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ سے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام مکمل طور پر باخبر ہیں، لیکن اس کے باوجود اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا جس پر محکمہ صحت پنجاب کی خاموشی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ہسپتال کے اندر الٹراساؤنڈ کی بنیادی سہولت ہی موجود نہیں ہو گی، تو ڈاکٹرز کے لیے یہ کیسے اور کس طرح ممکن ہو گا کہ وہ بروقت تشخیص کر سکیں کہ مریض کے پیٹ، معدے، اپینڈکس، پتے یا گردے میں کیا سنگین مسئلہ ہے؟ الٹراساؤنڈ کی عدم موجودگی میں ڈاکٹرز کے پاس تشخیصی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد ان کے پاس مریض کو راولپنڈی ریفر کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن یا راستہ ہی باقی نہیں بچتا۔ شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ کی فوری تعیناتی اور الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ کو فعال کیا جائے تاکہ غریب مریضوں کو خوار ہونے اور قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

More posts