Baaghi TV


خلا سے زمین کے گرد قطبی روشنیوں کا دلکش منظر، ناسا نے حیرت انگیز تصاویر جاری کردیں

‎بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلا بازوں نے زمین کے گرد پھیلی دلکش قطبی روشنیاں، جنہیں ارورا (Auroras) کہا جاتا ہے، کا شاندار منظر دیکھا تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے ان قدرتی مناظر کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جنہیں دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔
‎ناسا کے مطابق یہ تصاویر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود بھارتی نژاد امریکی خلا باز انیل مینن نے اپنے پہلے خلائی مشن کے دوران کھینچیں۔ تصاویر میں زمین کے افق پر سبز، نیلے اور ہلکے رنگوں کی روشن لہریں نمایاں ہیں، جو خلا سے ایک نہایت خوبصورت اور منفرد منظر پیش کر رہی ہیں۔
‎انیل مینن 14 جولائی کو قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے روسی خلائی جہاز Soyuz MS-29 کے ذریعے اپنے پہلے خلائی سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ہمراہ روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا بھی موجود ہیں۔ تقریباً تین گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز کامیابی سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ساتھ منسلک ہوگیا، جہاں عملہ مختلف سائنسی تجربات اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
‎ناسا کا کہنا ہے کہ ارورا اس وقت بنتی ہیں جب سورج سے خارج ہونے والے برقی ذرات زمین کے طاقتور مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں۔ یہ ذرات بالائی فضائی تہوں میں موجود آکسیجن اور نائٹروجن گیسوں کے ایٹمز سے تعامل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سبز، نیلے، سرخ اور جامنی رنگ کی روشنیاں آسمان پر بکھر جاتی ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں انہیں ارورا بوریلس جبکہ جنوبی نصف کرہ میں ارورا آسٹرالسکہا جاتا ہے۔
‎ماہرین کے مطابق زمین کا مقناطیسی میدان نہ صرف انسانوں اور دیگر جانداروں کو سورج سے آنے والی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ یہی قدرتی حفاظتی ڈھال ان حسین قطبی روشنیوں کے وجود کا بھی سبب بنتی ہے۔
‎ناسا نے بتایا کہ انیل مینن اپنے قیام کے دوران مصنوعی ذہانت کی مدد سے الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی، خلا میں انسانی جسم میں خون کی گردش اور بایو پرنٹنگ سمیت کئی جدید سائنسی منصوبوں پر تحقیق کریں گے۔ ان تحقیقات سے مستقبل میں طویل المدتی خلائی مشنز اور انسانی صحت سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
‎خلا سے لی گئی یہ نئی تصاویر نہ صرف قدرت کے حیرت انگیز حسن کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ جدید خلائی تحقیق کے ذریعے انسان کائنات کے بارے میں مسلسل نئی معلومات حاصل کر رہا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ ایسے مشنز مستقبل میں چاند، مریخ اور دیگر خلائی مقامات تک انسانی سفر کو مزید محفوظ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

More posts