Baaghi TV


2035 تک صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد کرنے کا ہدف، اویس لغاری

‎وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے 2035ء تک ملک کی توانائی میں صاف ذرائع کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج ٹیکنالوجی اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
‎بیٹری اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026ء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار، ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج کی اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
‎وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت مقامی سطح پر بیٹری اسٹوریج انڈسٹری کے قیام کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی انجینئرنگ، سسٹم انٹیگریشن اور بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان اس شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھ سکے۔
‎انہوں نے کہا کہ وزارتِ صنعت مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس کے تحت سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق اس پالیسی سے نہ صرف درآمدات میں کمی آئے گی بلکہ مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔
‎اویس لغاری نے مزید کہا کہ حکومت قومی بیٹری انرجی اسٹوریج فریم ورک بھی تیار کر رہی ہے، جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن کے اصول، سرمایہ کاری کے ضوابط اور آپریشنل رہنما اصول شامل ہوں گے تاکہ اس شعبے میں عالمی معیار کے مطابق ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
‎انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت 38 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد ہو گیا ہے، جو توانائی کے شعبے میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
‎وفاقی وزیرِ توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا پائیدار، ماحول دوست اور کم لاگت توانائی کا نظام تشکیل دینا ہے جو مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو بھی مضبوط بنائے۔

More posts