Baaghi TV


مراکشی خاتون فٹبالر اسپین پہنچنے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر جاں بحق

‎مراکش کی خاتون فٹبالر فاتن بن عمر العزیزی اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں۔ ان کی المناک موت نے مراکش، خصوصاً شمالی علاقوں اور فٹبال حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
‎مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاتن بن عمر العزیزی ماضی میں مراکش کے معروف فٹبال کلب موغریب ایتلیٹک تطوان کی نمائندگی کر چکی تھیں اور انہیں ایک باصلاحیت اور محنتی کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کی اچانک وفات پر ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور مداحوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
‎رپورٹس کے مطابق فاتن العزیزی شمالی مراکش سے اسپین کے علاقے سیوٹا پہنچنے کے لیے خطرناک سمندری راستہ اختیار کر رہی تھیں۔ دوران سفر پیش آنے والے حادثے کے باعث وہ سمندر میں ڈوب گئیں اور جانبر نہ ہو سکیں۔
‎حالیہ ہفتوں میں شمالی مراکش سے سیوٹا کی جانب غیر قانونی طور پر ہجرت کی کوششوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بہتر معاشی مواقع اور یورپ پہنچنے کی خواہش میں بہت سے افراد خطرناک سمندری راستے اختیار کرتے ہیں، جہاں خراب موسم، تیز لہریں اور ناکافی حفاظتی انتظامات متعدد جانیں لے چکے ہیں۔
‎فاتن بن عمر العزیزی کی موت نے ایک بار پھر غیر قانونی ہجرت کے دوران پیش آنے والے انسانی المیوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ محفوظ اور قانونی ذرائع کے بجائے خطرناک راستے اختیار کرنے سے قیمتی جانوں کا ضیاع بڑھ رہا ہے۔
‎فٹبال برادری نے فاتن العزیزی کو ایک باصلاحیت، خوش اخلاق اور پرعزم کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات کھیل کے میدان کے لیے بھی بڑا نقصان ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں صارفین نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔
‎یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے خطرناک راستے ہر سال بے شمار خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ محفوظ اور قانونی نقل و حرکت کے مواقع کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔

More posts