امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے سے متعلق جاری سفارتی کوششوں میں مثبت پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتیں تقریباً تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی۔ اسی طرح امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 5 فیصد سے زائد سستا ہو کر تقریباً 76 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرنے لگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ قیمتیں 13 جولائی کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جاتی ہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں مزید بہتری آئے گی، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کے ایک بڑے حصے کو خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اس لیے اس راستے سے متعلق کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی کی بڑی وجہ یہ توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطے کامیاب ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت معمول پر آ جائے گی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا باضابطہ اعلان کر دیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو بھی کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم مارکیٹ کی آئندہ سمت کا انحصار مذاکرات کے حتمی نتائج اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔
آبنائے ہرمز کھلنے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 80 ڈالر سے نیچے آگئیں
