بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق رکنِ پارلیمنٹ شکیب الحسن کے آبائی گھر پر نامعلوم افراد نے حملہ کرتے ہوئے اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شب تقریباً 9 بجے ضلع ماگورا کے علاقے کیشب مور میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے پہلے گھر پر پتھراؤ کیا، کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور بعد ازاں گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ماگورا صدر پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج محمد عبداللہ المامون نے بتایا کہ حملہ آوروں کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کے بعد گھر کے اطراف سکیورٹی سخت کرتے ہوئے پولیس تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، جس میں شکیب الحسن بھی شریک تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ حملے کے محرکات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ شیخ حسینہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ حالیہ خطاب کے ذریعے ڈھاکا چھوڑنے کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر ویڈیو لنک کے ذریعے منظرِ عام پر آئیں۔ ان پر 2025 میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
