اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان جج جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر ایک سال قید کی سزابھگت کراور 5لاکھ روپے جرمانہ اداکرکے 17جولائی کورہا ہونے والے راولپنڈی کے رہائشی سونارے عامر شہزاد کی درخواست پرسماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیاآپ شاہ رخ خان ہیں، سلمان خان ہیں،شہزادہ ولیم ہیں، اس کی تصویر تودکھائو، دوسری شادی کیوں کی،5لاکھ کی بجائے 75لاکھ روپے جرمانہ ہونا چاہیئے ،ا س کی سزابڑھانی چاہیئے، پہلی اوردوسری کوطلاق دی، تیسری کومارے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ کام طلاق دیناہے،تین بار طلاق دینے کاکیا حق ہے، یہ شخص بدقسمت نہیں بلکہ مست ہے۔کیاآدمی ہے، کیاوکیل نے اسے دیکھاہے؟ میں اپنی 40سالہ سروس میں نہیں دیکھا کہ کسی بھائی نے بہن کے لئے قربانی دی ہواور اپنا حصہ چھوڑا ہوا، ہردوسرے کیس میں بہن ہی بھائی کے لئے قربانی دیتی ہے اور اپنا حصہ چھوڑتی ہے، ہرجگہ طلاق مرد دیتا ہے، ایک کیس میں خاتون نے اپنے شوہر کوقتل کیاتھا ہم نے اسے بری کردیا۔ جسٹس شکیل احمدنے ریمارکس دیئے کہ پہلی دوکوطلاق دی ہے تیسری کومارے گا۔ تیسری کوبھی جیل سے نکل کرطلاق دے گا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3رکنی بینچ نے عامرشہزاد کی جانب دائر درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے طلعت محمود زیدی بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل میمونہ احسان پیش ہوئیں۔ وکیل کاکہناتھا کہ پہلی بیوی سے بغیر اجازت لیئے دوسری شادی کرنے پر سزاہوئی ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھا کہ اس کی سزابڑھانی چاہیئے۔ وکیل کاکہناتھا کہ کہناتھاکہ پہلی بیوی سے بچے نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کی تاہم دوسری سے بھی بچے نہیں ہوئے۔اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھا کہ یہ پٹھانوں والی بات ہے کہ نقص خاتون میں ہی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھا کہ کیا تم شاہ رخ خان ہو، سلمان خان ہو، شہزادہ ولیم ہو، اِس کی تصویر دکھائو، دوسری شادی کیوں کی، 5کی بجائے 75لاکھ جرمانہ ہونا چاہیئے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھا کہ پہلی اوردوسری کوطلاق دی تیسری کومارے گا۔ جسٹس شکیل احمد کاکہناتھا کہ تیسری کوبھی جیل سے نکل کرطلاق دے گا۔جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھا کہ میں اپنی 40سالہ سروس میں نہیں دیکھا کہ کسی بھائی نے بہن کے لئے قربانی دی ہواور اپنا حصہ چھوڑا ہوا، ہردوسرے کیس میں بہن ہی بھائی کے لئے قربانی دیتی ہے اور اپنا حصہ چھوڑتی ہے، ہرجگہ طلاق مرد دیتا ہے، ایک کیس میں خاتون نے اپنے شوہر کوقتل کیاتھا ہم نے اسے بری کردیا۔ وکیل کاکہناتھا کہ 5لاکھ جرمانہ بھی ہے، جرمانہ ادانہ کرنے پر مزید چار ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم کاکہناتھا کہ درخواست گزار نے باہر آکرکون ساسی ایس ایس کرنا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ کام طلاق دیناہے،تین بار طلاق دینے کاکیا حق ہے۔وکیل کاکہناتھا کہ درخواست گزار پر دھبہ ہے، درخواست گزار بدقسمت ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ کاکہناتھاکہ یہ شخص بدقسمت نہیں بلکہ مست ہے، دھبہ والی بات چھوڑ دو، خاتون کی مرضی کے بغیردوسری شادی کی،درخواست گزارجیولری کاکام کرتاہے۔ درخواست گزارکے وکیل کاکہناتھا کہ 11جون2023کو دوسری شادی کی، 19دسمبر2022کو طلاق دی تھی، دوسری بیوی نے شکایت درج کروائی۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کاکہناتھا کہ 12دسمبر2023کو طلاق مئوثر ہوناتھی تاہم درخواست گزا رنے 11جون2023کو دوسری شادی کرلی۔
میمونہ احسان کاکہناتھا کہ درخواست گزار 17جولائی 2026کو ایک سال کی سزاکاٹ کررہاہوچکاہے، اگررہاہوگیا ہے توجرمانہ بھی اداکردیاہوگا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کامدعی خاتون کونوٹس جاری کرتے ہوئے کہناتھا کہ دوہفتے بعد تک کیس ملتوی کررہے ہیں، اگر اُس روز وکیل بیمار ہوئے اور نہ آئے تودرخواست خار ج کردیں گے۔ جسٹس ہاشم کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ کیاآدمی ہے، کیاوکیل نے اسے دیکھاہے؟ جسٹس اشتیاق ابراہیم کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ اس کی بیعت کرلو۔ اس پر جسٹس شکیل احمد کاکہناتھا کہ اِسے قید ہوئی ہے آپ کوسزائے موت ہوگی۔ وکیل کااپنی شادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ مجھے پہلے ہی عمر قید ہوئی ہے۔ اس پر جسٹس شکیل احمد کاکہناتھا کہ سزائے موت پر نہ جائیں ہم عمرقید کوبرقراررکھتے ہیں۔ بینچ نے سماعت دوہفتے کے لئے ملتوی کردی
