وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو تجویز دیں گے کہ وفاقی کابینہ کے تمام وزراء کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ ہر وزارت کی کارکردگی شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جا سکے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ کسی آزاد یا تیسرے فریق سے کروایا جانا چاہیے، جس سے واضح ہو جائے گا کہ کون سی وزارت اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے اور کس شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور نظام کے خاتمے سے متعلق قیاس آرائیاں درست نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سیٹ اپ کہیں نہیں جا رہا اور حکومت پانچ سال کی مدت مکمل کرے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی کابینہ اجلاسوں میں حاضری تقریباً 70 فیصد رہی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ انہوں نے حکومت پر تنقید یا چارج شیٹ کی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وہ خود وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، اس لیے اپنی ہی حکومت پر الزام تراشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف حکومتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ عوام کو بہتر نتائج فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم روزانہ 14 سے 16 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اگر ادارہ جاتی نظام مزید بہتر ہو جائے تو حکومت کی کارکردگی اور نتائج کئی گنا بہتر ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ نظام میں بھی حکومت نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق ایف بی آر کی محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا، ملک نے سیکیورٹی کے میدان میں کامیابیاں حاصل کیں اور سفارتی سطح پر بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو ابتدا ہی سے زیادہ مؤثر اور مضبوط نظام میسر ہوتا تو پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا تھا۔
تمام وفاقی وزراء کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے، محسن نقوی
