اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہےکہ گزشتہ روز جنوبی لبنان کے قصبے مجدل زون میں دھماکا خیز مواد پھٹنے کے نتیجے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 4 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ سرحد کے قریب پیش آیا جہاں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں،اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز حزب اللہ کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت 34 سالہ میجر حارل بیرنسٹاک اور 33 سالہ سارجنٹ میجر تمیر واکنین کے نام سے ہوئی ہے، دونوں اہلکاروں کا تعلق 55ویں پیراٹروپرز بریگیڈ سے تھا۔
اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کی دوپہر تقریباً 12 بجے ریزرو بریگیڈ کے اہلکار حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی غرض سے مجدل زون کی ایک عمارت میں داخل ہوئے تھےاہلکاروں کے عمارت میں داخل ہوتے ہی ایک زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوگئے،زخمی فوجیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ لبنانی سرزمین کے اندر قابض فوج کے آپریشنز کے تسلسل کے سائے میں پیش آیا، واشنطن میں امریکی سرپرستی میں دستخط ہونے والے پرامن اور جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، جو کہ جنوبی علاقوں میں دھماکے اور فائرنگ کے آپریشنز کے نفاذ کے ذریعے بار بار ہونے والی خلافورزیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
قابض فوج کا ایک افسر گذشتہ ہفتے کے روز فجر کے وقت جنوبی لبنان کے علاقے علی الطاہر میں اسلامی مزاحمت "حزب اللہ” کے عناصر کے ساتھ جھڑپوں کے دوران زخمی ہو گیا تھا، جو کہ علاقے میں جاری میدانی کشیدگی کی علامت ہے۔
قابض اسرائیل کی فورسز دو مارچ سنہ 2026ء سے لبنان پر اپنی عسکری جارحیت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں چار ہزار تین سو تتیس افراد شہید اور بارہ ہزار دو سو پچاس دیگر زخمی ہو چکے ہیں، جیسا کہ لبنانی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہے۔
اس کے علاوہ قابض اسرائیل جنوب لبنان میں بعض ایسے علاقوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے جو دہائیوں سے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں پر ان تصادمات کے بعد سے کنٹرول کیے ہوئے ہے جو اس علاقے نے سنہ 2023ء اور سنہ 2024ء کے درمیان دیکھے، اس کے علاوہ موجودہ جارحیت کے دوران لبنانی سرزمین کے اندر دس کلومیٹر سے زیادہ مسافت تک اس کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔
