ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان فلسطین، مشرقِ وسطیٰ، انسدادِ دہشت گردی، علاقائی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے حوالے سے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے آئندہ دورۂ سعودی عرب کے دوران ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، جس میں پاک۔سعودی تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، علاقائی اور عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا، دونوں رہنما مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً غزہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں، مشرقی یروشلم، بحیرہ احمر اور باب المندب کی تازہ پیش رفت پر بھی گفتگو کریں گے، پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر اور دیگر ارکان ہونگے-
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 5 اگست کو اردن میں القدس (یروشلم) سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور منتخب اسلامی ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا،اجلاس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا جامع، منصفانہ اور دیرپا حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام، القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اجلاس میں علاقائی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ امن کے فروغ کے لیے قریبی رابطوں، مشاورت اور سفارت کاری کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، اسحاق ڈار نے اجلاس کے موقع پر اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، ایران اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق خصوصی مذاکرات کا حالیہ دور بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کی۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، سرحدی سلامتی بہتر بنانے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے اور موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ 4 اگست کو کینیڈا میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سینئر حکام کی سطح پر مذاکرات اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا دونوں ممالک نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان نے یومِ استحصال کشمیر کی ساتویں برسی بھی بھرپور انداز میں منائی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔بھارت کے پاس آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کی کوئی اخلاقی و قانونی پوزیشن نہیں –
