برطانیہ کے متنازع ریئلٹی ٹی وی اسٹار اسٹیفن بیئر کو سابق گرل فرینڈ کے خلاف جاری پابندی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے پر 16 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے ان پر متاثرہ خاتون سے رابطے کی پابندی کا نیا حکم بھی جاری کیا ہے، جو غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔
36 سالہ اسٹیفن بیئر کو 2016 میں Celebrity Big Brother جیتنے کے بعد شہرت ملی تھی، تاہم بعد ازاں وہ ایک جنسی ویڈیو کو متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنے اور اسے آن لائن نشر کرنے کے مقدمے میں سزا یافتہ قرار پائے۔بیئر نے اپنی سابق گرل فرینڈ اسٹار جارجیا ہیریسن کے ساتھ نجی جنسی ویڈیو ان کی اجازت اور علم کے بغیر اپنے اونلی فینز اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔اس جرم پر انہیں 2023 میں 21 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ انہیں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے رجسٹر میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ جارجیا ہیریسن کے تحفظ کے لیے پانچ سالہ پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا تھا۔
اسٹیفن بیئر نے گزشتہ سال مارچ سے جولائی کے دوران سوشل میڈیا پر جارجیا ہیریسن کے خلاف متعدد پوسٹس کیں، حالانکہ عدالتی حکم کے تحت انہیں ایسا کرنے سے واضح طور پر روکا گیا تھا۔استغاثہ کے مطابق بیئر نے فیس بک،انسٹا گرام،یوٹیوب،ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر جارجیا ہیریسن کے بارے میں توہین آمیز اور تضحیک آمیز تبصرے کیے، الزامات عائد کیے اور دیگر افراد کو بھی ان کے خلاف تبصرے کرنے کی ترغیب دی۔جارجیا ہیریسن نے پولیس کو اس حوالے سے اسکرین شاٹس اور اسکرین ریکارڈنگز فراہم کیں، جن میں بیئر کی جانب سے کی جانے والی مبینہ پوسٹس اور تبصرے موجود تھے۔
جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران اسٹیفن بیئر کو پابندی کے حکم کی خلاف ورزی پر 16 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔عدالتی فیصلے کے بعد بیئر کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں رہائی سے قبل اپنی سزا کا کم از کم نصف حصہ جیل میں گزارنا ہوگا، جبکہ عدالت نے جارجیا ہیریسن سے رابطے پر غیر معینہ مدت کی نئی پابندی بھی عائد کردی ہے۔
سزا سنائے جانے کے بعد جارجیا ہیریسن نے پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کی شکایت کو اس وقت سنجیدگی سے لیا جب ان جیسے حالات سے گزرنے والی بہت سی خواتین کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس معاملے کو محض ایک مشہور شخصیت سے متعلق تنازع سمجھنے کے بجائے ایک حقیقی شخص کے خلاف سنگین جرم کے طور پر دیکھا۔ہیریسن کے مطابق پولیس نے شواہد جمع کیے، کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور جب پابندی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہر پولیس فورس اسی انداز میں ایسے مقدمات کو سنجیدگی سے لے تو ہزاروں خواتین خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی۔
جارجیا ہیریسن نے اس مقدمے میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کا قانونی حق خود ترک کیا تھا۔ وہ ریئلٹی ٹی وی پروگرامز میں شرکت کے باعث برطانیہ میں معروف ہیں۔نجی ویڈیو ان کی اجازت کے بغیر آن لائن شیئر کیے جانے کے واقعے کے بعد انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور آن لائن جنسی استحصال کے خلاف بھرپور مہم بھی چلائی ہے۔یہ مقدمہ اس بات کی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے کہ عدالتی پابندیوں کی خلاف ورزی، آن لائن ہراسانی اور کسی فرد کی نجی زندگی سے متعلق مواد کے غیر رضاکارانہ اجرا کو برطانوی قانون میں کس قدر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
