Baaghi TV

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں 33 فیصد کمی، بیشتر جہاز ایرانی مقررہ راستے پر گامزن

iran

‎دبئی: عالمی نیوی ٹریفک ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم زیادہ تر تجارتی جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے پر سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
‎ادارے کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز سے صرف 8 بحری جہاز گزر رہے ہیں، جو معمول کے مقابلے میں یومیہ بنیاد پر تقریباً 33 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری سیکیورٹی خدشات کے باوجود بحری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل نہیں ہوئیں، تاہم جہاز رانی کی رفتار اور تعداد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
‎عالمی نیوی ٹریفک ادارے نے مزید بتایا کہ بیشتر بحری جہاز ایران کی جانب سے متعین کردہ راستے کو اختیار کر رہے ہیں، جس کا مقصد محفوظ نیوی گیشن کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ ہے۔
‎دوسری جانب آبنائے باب المندب میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق وہاں جہازوں کی آمدورفت میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس وقت 26 بحری جہاز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق باب المندب میں کسی بھی تجارتی جہاز پر حملے یا سیکیورٹی واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
‎ادھر سعودی عرب نے آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں جہاز رانی کی آزادی اور سمندری سلامتی کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد میں اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
‎سعودی وزارت دفاع کے مطابق ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو اس نئے بحری اتحاد کا کمانڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری اتحاد کے قیام کے ایک ہفتے بعد عمل میں آئی ہے۔
‎وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ریئر ایڈمرل الشہری مشترکہ بحری دفاعی کارروائیوں کی نگرانی کریں گے، رکن ممالک اور دیگر بحری اتحادوں کے ساتھ رابطے کو مؤثر بنائیں گے اور اتحاد کے چارٹر کے مطابق سمندری سلامتی، جہاز رانی کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

More posts