کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے تشکیل دیا گیا میڈیکل بورڈ تنازع کا شکار ہو گیا، جس کے بعد اہلخانہ نے بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قبر کشائی کی کارروائی رکوا دی۔ میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس میں اچانک تبدیلیوں نے کیس میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
قبر کشائی سے قبل میر رضا علی کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پہلے تشکیل دیے گئے بورڈ میں اچانک تبدیلی کی گئی، مگر اس کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دوسرے شہروں سے ڈاکٹرز کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ کراچی میں بھی مستند فرانزک ماہرین موجود ہیں۔
وکیل جبران ناصر نے کہا کہ جب تک اہلخانہ کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، نئے بورڈ کے تحت پوسٹ مارٹم یا قبر کشائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق مختلف نوٹیفکیشن جاری ہونے سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں سینئر کرائم رپورٹر نے کراچی پولیس چیف کے حوالے سے بتایا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ دوسرا بورڈ اس کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرے گا۔ دونوں بورڈز کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کریں گی، جبکہ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا رہا ہے تاکہ ابہام دور کیا جا سکے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بھی بتایا کہ ابتدائی پانچ رکنی بورڈ پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں پرانے اور نئے دونوں بورڈز کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اہلخانہ نے اس انتظام پر بھی اعتراض برقرار رکھا۔
کارروائی کے لیے قبرستان میں پولیس، عدالتی عملہ اور طبی ماہرین موجود تھے جبکہ میر رضا علی کے اہلخانہ، رشتہ دار اور دوست بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچے تھے۔ تاہم اہلخانہ کی مخالفت کے باعث قبر کشائی کی کارروائی مؤخر کر دی گئی۔
میر رضا علی کیس: میڈیکل بورڈ پر تنازع، اہلخانہ کے اعتراض کے بعد قبر کشائی مؤخر
