Baaghi TV

فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بدترین جنگلاتی آگ، 4 لاکھ سے زائد ایکڑ متاثر

‎فرانس میں رواں سال جنگلات کی آگ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی دوسرے سال کے مقابلے میں زیادہ تباہی مچائی ہے، جس کے بعد ماہرین اور شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ملک میں آگ لگنے کے واقعات اتنے شدید کیوں ہوگئے ہیں۔
‎ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں فوسل فیول کے مسلسل استعمال سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور خشک نباتات جنگلات میں آگ کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہے ہیں۔
‎فرانسیسی ریکارڈز کے مطابق ملک میں ہر 10 میں سے تقریباً 9 جنگلاتی آگ کے واقعات انسانی سرگرمیوں سے شروع ہوتے ہیں۔ ان میں بعض آگ جان بوجھ کر لگائی جاتی ہیں جبکہ کئی واقعات انسانی غفلت کے باعث پیش آتے ہیں۔
‎فرانسیسی وزارت داخلہ نے آگ لگانے کے شبہ میں 420 افراد کو گرفتار کیے جانے کا اعلان کیا ہے، جن میں 166 کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن پر جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر آگ بھڑکانے کا الزام ہے۔
‎جنوب مشرقی علاقے وار میں ایک 23 سالہ شخص پر گزشتہ ماہ صرف پانچ دن کے دوران 10 مقامات پر جان بوجھ کر آگ لگانے کا الزام عائد کیا گیا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے 15 سال تک قید اور ایک لاکھ 50 ہزار یورو جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
‎دوسری جانب بعض مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے سخت سزاؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک شخص کو تین مختلف آگ لگانے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی، حالانکہ مقامی میڈیا کے مطابق ان واقعات میں صرف چند مربع میٹر نباتات متاثر ہوئی تھیں۔
‎کچھ دیگر مقدمات میں بے گھر افراد اور شدید آٹزم کا شکار ایک شخص بھی سگریٹ کے ٹوٹے پھینکنے کے الزام میں قید کی سزا کا سامنا کر چکے ہیں۔
‎وکیل موریل گیسٹا، جو آتش زنی کے الزامات کا سامنا کرنے والے متعدد افراد کی نمائندگی کر چکی ہیں، نے گرفتاریوں کی تعداد کو ضرورت سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کئی مقدمات میں سزا ہونا یقینی نہیں۔

More posts